viernes, 31 de julio de 2015

ماں تو ماں ہوتی ہے ،تمھارا جیب کترا

ماں تو ماں ہوتی ہے ،تمھارا جیب کترا

بس سے اتر کر جیب میں ہاتھ ڈالا۔ میں چونک پڑا۔جیب کٹ چکی تھی۔ جیب میں تھا بھی کیا؟ کل نو روپئے اور ایک خط جو میں نے ماں کو لکھا تھا:’’میری نوکری چھوٹ گئی ہے، ابھی پیسے نہیں بھیج پاؤں گا‘‘۔تین دنوں سے وہ پوسٹ کارڈ جیب میں پڑا تھا، پوسٹ کرنے کی طبیعت نہیں ہو رہی تھی۔نو روپے جاچکے تھے۔یوں نو روپے کوئی بڑی رقم نہیں تھی۔۔۔ لیکن جس کی نوکری چھوٹ گئی ہواُس کے لیے نو سو سے کم بھی تو نہیں ہوتی ہے۔کچھ دن گزرے ۔۔۔ ماں کا خط ملا۔پڑھنے سے پہلے میں سہم گیا۔ضرور پیسے بھیجنے کو لکھا ہوگا لیکن خط پڑھ کر میں حیران رہ گیا!ماں نے لکھا تھا:’’بیٹا! تیرا بھیجا پچاس روپے کا منی آرڈر ملا۔تو کتنا اچھا ہے رے ۔۔۔ پیسے بھیجنے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتا‘‘۔میں کافی دنوں تک اس اُدھیڑ بُن میں رہا کہ آخر ماں کو پیسے کس نے بھیجے؟ کچھ دن بعد ایک اور خط ملا۔ آڑی ترچھی لکھاوٹ۔بڑی مشکل سے پڑھ سکا:’’بھائی نو روپے تمھارے، اور اکتالیس روپے اپنے ملا کر میں نے تمھاری ماں کو منی آرڈر بھیج دیا ہے۔فکر نہ کرنا، 
‫ماں‬ تو سب کی ایک
جیسی ہوتی ہے نا! 
وہ کیوں بھوکی رہے؟
۔۔۔تمھارا جیب کترا‘‘۔
محمدابوبکرصدیق


اسم اعظم کو پکارو، بیشک اللہ پکار سننے والا ہے

اسم اعظم کو پکارو، بیشک اللہ پکار سننے والا ہے

وہ شخص ساری زندگی اسم اعظم کی تلاش میں رہا، اس نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا! وہ جانتا تھا کہ اسم اعظم وہ اللہ کا پاک نام ہے جس سے اسے پکارا جائے تو سارے بگڑے کام بن جاتے ہیں، بہت تحقیق کی ، سب کی رائے مختلف تھی، کوئ کہتا کہ اللہ ہی اسم اعظم ہے، کوئ کہتا کہ حی القیوم اسم اعظم ہے کوئ کہتا ، واحد اسم اعظم ہے۔ اس نے پڑھا تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اسم اعظم کا علم تھا ،یہ مبارک نام ان کی انگوٹھی پر نقش تھا، جس کی وجہ سے ساری دنیا پر انھوں نے حکومت کی۔
اس کا دین سے کوئی خاص لگاؤ بھی نہیں تھا، مگر یہ اسم اعظم کا خیال اس کے سر پر ہمیشہ سوار رہتا ، وہ اللہ کے مختلف نام جو اس کے خیال میں اسم اعظم ہوسکتے ہیں لے کر پکارتا! پھر مشاہدہ کرتا کہ کیا اس سے اس کے حالات میں کوئ تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ مگر اس کے حالات پہلے کی طرح ہی خستہ تھے!
آج وہ سخت مایوس تھا، ہر طرف سے ناکامی کے بعد،جیسے اس نے زندگی کی آرزو ہی چھوڑ دی ہو، اس نے خودکشی کا فیصلہ کیا! اس نے خودکشی کے مختلف طریقوں پر غور کیا، پھر اسے خیال آیا کہ اگر کچھ ادویات زیادہ مقدار میں کھا لی جائیں تو اس سے آدمی مر جاتا ہے۔ اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ کون سی ادویات ہوتی ہیں، اس کے گھر میں ادویات کا ذخیرہ تھا، جو مختلف اقسام کی تھیں! اس میں سیرپ، اور بہت سی گولیاں تھیں، اس نے کافی مقدار میں گولیاں کھائیں اور سیرپ پر سیرپ پینے شروع کردئیے!جب وہ یہ سب کچھ کرچکا ،تو اسے اللہ کا خیال آیا، اسے اس بات کا خیال آیا کہ خودکشی حرام ہے، اور اس کی سزا جہنم ہے۔ اس پر شدید خوف طاری ہوگیا، کچھ اس بات سے کہ وہ عنقریب مرنے والا ہے کچھ اس بات سے کہ جس طریقے سے مر رہا ہے وہ بھی حرام ہے۔
اس نے رونا شروع کردیا، کچھ دیر بعد اٹھا، وضو کیا ، جائے نماز بچھایا اور نماز پڑھنے لگا، اس کے آنسو جائے نماز پر گر رہے تھے۔ نماز کے بعد اس نے دعا کے لیے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے! آج جیسے پہلی بار دل سے دعا کررہا تھا، یااللہ مجھے بچا لے! میں ناسمجھ ہوں، یااللہ میں آئندہ کبھی بھی اس طرح کا عمل نہیں کروں گا۔ کافی دیر تک دعا میں روتا رہا۔ سارا دن پریشان رہا کہ جو اس نے ادویات کھائ ہیں کہیں اس کی وجہ سے اس کا برا حال نہ ہوجائے! مگر دن خیریت سے گزر گیا اور اسے کچھ نہ ہوا!
اب اسے سمجھ آئی کہ اسم اعظم اللہ کو دل سے پکارنے کا نام ہے، چاہے جس نام سے مرضی پکارو! اللہ سنتا ہے۔


یہ سودا سستا ہے ۔ "سیدعطاءاللہ شاہ بخاری"

جیل میں حضرت فاطمہ رضىٰ الله عنها کی سنت کو کس نےپورا کیا ؟

سید عطا ء اللہ شاہ بخاری رحمة الله ایک مرتبہ میانوالی ،جیل میں گئے ۔ گرمی کا موسم تھا ،ہر روز شاہ صاحب رحمة الله بیس سیر دانہ پیسنے تھے۔جب رہا ہوکر آئے تو کسی پوچھا :شاہ صاحب!آپ چکی چلاتے تھے؟ دانہ پیستے تھے آپ کو تکلیف ہوتی تھی ؟آپ جیسا نازک جسم ، اورریشم جیسی ہتیلی ؟ شاہ صاحب رحمة الله آبدیدہ ہوگئے!فرمایا سودہ مہنگا نہیں ،دن کو حضرت فاطمہ رضیٰ اللہ عنہاکی سنت پر عمل کرتاتھاتورات کو ناناجان مصطفیٰ کریم ﷺ کی زیارت سے مستفید ہوتا تھا۔

jueves, 30 de julio de 2015

انسان کی اصل جائیداد صرف دو گز زمین

انسان کی اصل جائیداد صرف دو گز زمین


ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر ایک شخص کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کرسکااورسورج غروب ہوگیاتواسےکچھ نہیں ملےگا۔
یہ سن کر وہ شخص چل پڑا۔ چلتے چلتے ظہر ھو گئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاہیے، مگر پھر لالچ نے غلبہ پالیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں، پھر واپسی کا خیال آیاتوسامنےکےخوبصورت پہاڑکودیکھ کر اس نے سوچا، اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاہیے۔
الغرض واپسی کا سفرکافی دیرسےشروع کیا۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ہے۔ وہ جتنا تیز چلتا، پتہ چلتا سورج بھی اتنا جلدی ڈھل رہا ہے۔ عصر کے بعد توسورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پگھلنا شروع ہو گیا ہے۔
وہ شخص دوڑنا شروع ہوگیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نظر آرہا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جارہاتھا، مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جارہا تھا۔
آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گراکہ اسکاسراسکےسٹارٹنگ پوائنٹ کو چھورہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رہے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کردیا۔ جس جگہ وہ گرا تھا اسی جگہ اس کی قبر بنائی گئی اور قبر پر کتبہ لگایاگیا، جس پر لکھا تھا۔
"اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اس کی قبر ہے۔"
اللہ پاک نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے:
والعصر، ان الانسان لفی خسر۔۔۔۔
آج ہمارے دائرے بھی بہت بڑے ہو گئے ہیں، چلئے واپسی کی سوچ سوچتے ہیں۔۔
اللہ پاک ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق نصیب فرمائے اور خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثُم آمین۔

martes, 28 de julio de 2015

قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں

قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں

احمدی حضرات کا کہنا ہے کہ ہم تمام دینی امور نماز، روزہ وغیرہ مسلمانوں کے طریقے کے مطابق ادا کرتے ہیں اور سو سال میں ہماری اچھی خاصی تعداد ہو گئی ہے پھر ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے؟ جب احمدی دوستو سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ دنیا کے ایک ارب بیس کروڑ مسلمان کم و بیش جو دین اسلام پر چل رہے ہیں آپ (احمدی حضرات) ان کو کافر اور حرامی کیوں کہتے ہیں اور ان کے خلاف بدترین زبان کیوں استعمال کرتے ہیں تو اس کا جواب نہیں دیا جاتا الٹا Love for All, Hatred for None کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے۔ احمدی حضرات کے عقائد اور تحریرات میں مسلمانوں کے ساتھ شادی بیاہ سے لیکر جنازہ اور تدفین تک جملہ معاملات میں بائیکاٹ کا حکم ہے اور بھرپور زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا معاملہ نہ رکھیں۔ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
(1)”اور جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“
(انوار اسلام صفحہ 30، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا غلام احمد قادیانی)
(2) ترجمہ: ” میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگررنڈیوں(بد کار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547-548، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547-548 از مرزا غلام احمد قادیانی)
(3) ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں“
(نجم الہدی صفحہ 53، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53)
(4) ”جو میرے مخالف تھے انکا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا“
(نزول المسیح(حاشیہ) صفحہ 4، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382)
(5) ”اور مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناحت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی، وہ جہنمی ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات صفحہ 168 طبع دوم از مرزا غلام احمد)
(6) ”خدا تعالی نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخض جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات صفحہ 600 طبع دوم از مرزا غلام احمد)
(7) ”ہر ایک ایسا شخص جو موسی(علیہ السلام) کو مانتا ہے لیکن عیسی(علیہ السلام) کو نہیں مانتا، یا عیسی(علیہ السلام) کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو نہیں مانتا اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے پر مسیح موعود کا نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“
(کلمۃ الفضل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی)
(8)”کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود(مرزا صاحب) کی بیعت میں شامل نہیں ہووے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود(مرزا صاحب) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں میں مانتا ہوں یہ میرے عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت صفحہ 35، انوار العلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا غلام احمد قادیانی)
(9)”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالی کہ ایک نبی کے منکر ہیں۔“
(انوارِ خلافت صفحہ 90 از مرزا محمود احمد)
(10)”غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں حتی کہ غیر احمدی معصوم بچے کا بھی جائز نہیں۔“
(انوارِ خلافت صفحہ 93 از مرزا محمود احمد)
(11)”صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمھاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمھاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لیے ہے۔ تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالی جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے، وہ نہیں رکھے گا۔“
(ملفوظات احمدیہ جلد اول صفحہ 525 از مرزا غلام احمد قادیانی)
(12)”آپ(مرزا صاحب) کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا ہے، جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نہ کبھی شرارت نہ کی تھی.....لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ حالانکہ وہ اتنا فرمابردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ آپ کی مرضی ہے، اسی طرح کریں۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔“
(انوارِ خلافت صفحہ 91 از مرزا بشیر الدین محمود)
(13)”ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود(مرزا غلام احمد قادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریاں کو پیش کیا۔ لیکن اپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں کو نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔ اور اپنی خلافت کے چھ سالوں مین اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یہ کہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“
(انوارِ خلافت صفحہ 93-94 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا غلام احمد قادیانی)
(14)”ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکی دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرا دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔“
چیلنج

ہمارا چیلنج ہے کہ جماعت احمدیہ کہ پاس ان حوالہ جات کا کوئی مثبت جواب نہیں۔ بھولے بھالے احمدی حضرات کو جماعت احمدیہ اصل حقائق سے دور رکھتی ہے۔ اس لئے ہم نے اس موضوع پر تحریر کردہ تمام حوالہ جات جماعت احمدیہ کی اصل کتب سے سکین(Scan) کرکے ساتھ دے دیئے ہیں۔ تمام حوالہ جات درست ہیں اور کوئی بڑے سے بڑا مربی بھی ان حوالہ جاتا کو غلط ثابت نہیں کر سکتا۔ اگر حوالہ جات غلط ثابت ہوں تو ایک کروڑ روپیہ انعام دیا جائے گا۔
دعوت غور و فکر/ اپیل
احمدی حضرات سے درخواست ہے کہ وہ تمام حوالہ جات کی تصدیق کے بعد Love for All, Hatred for None کا نعرہ لگانا بند کر دیں۔ دوسروں کو بیوقوف بنانا بند کر دیں اور خود بھی اپنے مربیوں کے ہاتھوں بیوقوف نہ بنیں اور اپنے اندر حق کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔


اس آرٹیکل کو اپنی ویب سائیٹ پہ لگانے کے لیے یہ کوڈ ایچ ٹی ایم ایل میں استعمال کریں
<iframe src="https://www.slideshare.net/slideshow/embed_code/key/kH2Mh5PDfbxI37" width="476" height="400" frameborder="0" marginwidth="0" marginheight="0" scrolling="no"></iframe>

اس آرٹیکل کو یہاں سے آنلائن پڑھیں



































lunes, 27 de julio de 2015

بھارتی ہندو یاتری بھی کشمیری مسلمانوں کے گن گانے لگے۔

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں ضلع گاندربل میں بادل پھٹ جانے سے متاثر ہونے والے ہندو یاتریوں نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا کشمیریوں کے بارے میں جو پروپیگنڈا کر رہا ہے وہ سفید جھوٹ ہے۔
مقبوضہ کشمیر گئے ہندو یاتریوں کا کہنا ہے کہ وہ زندگی بھر کشمیری مسلمانوں کی انسان دوستی اور بہادری کو نہیں بھولیں گے جنھوں نے ان کی جان اس وقت بچائیں جب بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار بھی ان کی مدد کرنے کے بجائے اپنی جان بچا رہے تھے۔
پنچاب کے علاقے گرداس پور سے تعلق رکھنے والے ہندو یاتری کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ اس وقت کیمپ میں موجود تھے جب اچانک سیلابی پانی ان کے خیمے بہا لے گیا، ہم مدد کے لیے پکاررہے تھے لیکن ہرایک اپنی جان بچانے کی کوشش کررہا تھا۔ اس وقت اچانک مقامی کشمیری نمودار ہوئے جنھوں نے اپنی جان پر کھیل کر ان کی اور 2 بچوں سمیت ان کے سارے خاندان کی جان بچائی، کشمیریوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں۔ اترپریش کے علاقے متھورا سے تعلق رکھنے والی ہندو خاتون پرتیبھادیوی نے جو بھوکی پیاسی لگ رہی تھی صحافیوں کو بتایاکہ ان کی زندگی مقامی کشمیریوں نے بچائی ہے، ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا کہ جن کشمیریوں سے ہم نفرت کرتے ہیں وہ ہماری جان بچائیں گے۔ ایک ہندو یاتری نے ہاتھ جوڑ کر مقامی مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں نے ان کے19سالہ بیٹے راہول کی زندگی بچائی۔



جدہ :زید حامد کو سعودی عرب میں اب تک 150 کوڑے مارے جا چکے ہیں۔

جدہ: زید حامد کو سعودی عرب میں اب تک 150 کوڑے مارے جاچکے ہیں
 جدہ (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 27 جولائی 2017ء):  پاکستانی دفاعی تجزیہ نگار زید حامد کو سعودی عرب میں سعودی حکومت کے خلاف شر انگیز تقریر کرنے اور ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں سعودی حکام نے گرفتار کر لیا . قاضی نے زید حامد کو یکم جولائی کو ایک ہزار کوڑے اور 8 سال قید کی سزا سنائی تھی اور قاضی نے اپنے ضمنی فیصلے میں لکھا تھا کہ زید حامد کو ہر ہفتے 50 کوڑے مارے جائیں گے . تاہم ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ زید حامد کو اب تک 150 کوڑے مارے جا چکے ہیں اور سزا ہونے کے بعد اب تک 25 سے مقید ہیں. پاکستانی سفارتخانے کی بارہا کوششوں کے با وجود سعودی حکام نے سفارتی عملے کو زید حامد تک رسائی نہیں دی اور جواب دیا ہے کہ زید حامد باقی مجرموں کی طرح ایک عام مجرم ہیں. اور اس سے بھی وہی مشقت کروائی جا رہی ہے جو باقی قیدیوں پر لازم ہے اور اسے  جُرم  کے پیش نظرسعودی قوانین کے مطابق ہی سزا دی گئی ہے.


domingo, 26 de julio de 2015

"کتاب کذبات مرزا" از مولانا ابوعبیدہ رحمۃُ اللہ علیہ کے انڈکسز

کتاب کذبات مرزا از مولانا ابوعبیدہ رحمۃُ اللہ علیہ کے انڈکسز

اس کتاب میں مرزا قادیانی کے تقریبا 54 جھوٹ جمع کیے ہیں جو کہ مرزا قادیانی نے بولے ہیں۔


کتاب کذبات مرزا کے انڈکسز

کتاب کذبات مرزا از مولانا ابوعبیدہ رحمۃُ اللہ علیہ کو آنلائن پڑھیں

"کذباتِ مرزا" تعارف

جھوٹے کے متعلق مرزا قادیانی کے اقوال

جھوٹے کے متعلق مرزا قادیانی کے اقوال (قول نمبر 1)


مرزا غلام قادیانی کے جھوٹ