Mostrando entradas con la etiqueta ٹاپک : ثبوت حیات عیسی علیہ السلام از احادیث مبارکہ. Mostrar todas las entradas
Mostrando entradas con la etiqueta ٹاپک : ثبوت حیات عیسی علیہ السلام از احادیث مبارکہ. Mostrar todas las entradas

domingo, 28 de junio de 2015

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 27 (زریب بن برتملا وصی کا پہاڑ سے نکل کر گواہی دینا)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (زریب بن برتملا وصی کا پہاڑ سے نکل کر گواہی دینا)

حدیث نمبر:۲۷… 
ناظرین! سینکڑوں حدیثیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے ثبوت میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مگر ساری احادیث کو لکھ کر ہر ایک کے متعلق بحث درج کرنے سے ایک بہت ہی ضخیم کتاب بن جائے گی۔ لہٰذا صرف اسی قدر پر اکتفا کرتا ہوں۔ ہاں سب احادیث مذکورۃ الصدر کی صحت اور اسلامی تفسیر کے معتبر ہونے پر ایسے شخص کی مہر توثیق ثبت کراتا ہوں کہ قادیانیوں کے لئے ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ کا نقشہ کھچ جائے۔ یہ بزرگ ہستی رئیس المکاشفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔
جن کے متعلق مرزاقادیانی کا ارشاد ہے۔
’’کہ وہ احادیث کے غلط اور صحیح ہونے کا فیصلہ رسول پاکﷺ سے بالمشافہ گفتگو کر کے پوچھ لیا کرتے تھے۔‘‘ 
(ازالہ اوہام ص۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
شیخ ابن عربی قدس سرہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب (فتوحات مکیہ ج۱ ص۲۲۳،۲۲۴) کے باب میں ایک حدیث درج کی ہے۔ چونکہ حدیث بہت طویل ہے۔ لہٰذا عربی عبارت کا ترجمہ شمس الہدایہ مصنفہ حضرت مولانا پیر سید مہر علی شاہ صاحبؒ مسند آرائے گولڑہ شریف سے نقل کرتے ہیں۔
’’فرمایا حضرت ابن عمرؓ نے کہ میرے والد عمرؓ بن الخطاب نے سعد بن وقاصؓ کی طرف لکھا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی طرف روانہ کرو۔ تاکہ مال غنیمت حاصل کریں۔ پس روانہ کیا سعد نے نضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت سا مال غنیمت کا حاصل کیا اور ان سب کو لے کر واپس ہوئے تو آفتاب غروب ہونے کے قریب تھا۔ پس نضلہ انصاری نے گھبرا کر ان سب کو پہاڑ کے کنارے ٹھہرایا اور خود کھڑے ہوکر اذان دینی شروع کی۔ جب اﷲ اکبر، اﷲ اکبر کہا تو پہاڑ کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ اے نضلہ تو نے خدا کی بہت بڑائی کی۔ اسی طرح تمام اذان کا جواب پہاڑ سے اسی مجیب نے دیا۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے کھڑے ہو کر دریافت کرنا شروع کیا کہ اے صاحب آپ کون ہیں؟ فرشتہ یا جن یا انسان جیسے آپ نے اپنی آواز ہم کو سنائی ہے۔ اسی طرح اپنا آپ ہمیں دکھائیے۔ اس واسطے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اﷲﷺ اور نائب رسول عمر بن الخطابؓ کی جماعت ہیں۔ پس پہاڑ پھٹا اور ایک شخص باہر نکل آیا… اور السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا۔ ہم نے جواب دیا اور دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ فرمایا زریب بن برتملا وصی عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لئے دعا فرمائی۔ جب وہ اتریں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے۔ نصاریٰ کے اختراع سے پھر دریافت فرمایا کہ وہ نبی صادق بالفعل کس حال میں ہیں… پھر ہم سے غائب ہوگئے۔ پس نضلہ نے یہ مضمون سعدؓ کی طرف لکھا اور سعد نے حضرت عمرؓ کی طرف۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کی طرف لکھا کہ تم اپنے ہمرائیوں کو لے کر اس پہاڑ کے پاس اترو۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان کو پہنچائیو۔ اس واسطے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کے پہاڑوں میں اترے ہوئے ہیں۔ پس سعدؓ چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑوں کے قریب اترے… مگر ملاقات نہ ہوئی۔‘‘
(شمس الہدایہ ص۶۰تا۶۲)
تصدیق حدیث

۱… یہ حدیث بیان کر کے حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اگرچہ ابن ازہر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محدثین کے نزدیک کلام ہے۔ مگر اہل کشف کے نزدیک یہ صحیح حدیث ہے۔
۲… مجدد اعظم صدی یازدہم حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی نے بھی اس حدیث کو اپنی کتاب (ازالۃ الخفا مترجم ج۴ ص۹۱تا۹۳، مقصد دوم ص۱۶۷،۱۶۸، الفصل الرابع) میں درج فرمایا ہے۔
نتائج

۱… حدیث کی صحت کے متعلق حضرت شیخ قدس سرہ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے خلاف زبان کھولنا مرزاقادیانی کے قول کے رو سے فسق اور کفر ہے۔
۲… زریب بن برتملا وصی حضرت مسیح علیہ السلام کو اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اس قدر طویل عمر عطا کی کہ وہ اب تک زندہ ہیں۔ گویا زریب بن برتملا بھی دوہزار سال سے زندہ ہیں۔
۳… زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ فرمائے۔ ’’ودعالی بطول البقاء الیٰ نزولہ من السمائ‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے نازل ہونے تک میرے زندہ رہنے کی دعا کی۔
۴… قریباً چار ہزار صحابہ کرامؓ نے زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام کا جواب سنا اور گویا اس کی تصدیق کی۔
۵… چار ہزار صحابہؓ کی طرف سے حضرت سعد بن وقاص نے حضرت عمرؓ کو سارا حال لکھ بھیجا اور حضرت عمرؓ نے اس واقعہ کی حدیث نبوی سے تصدیق کر دی اور مزید انکشاف کے لئے حضرت سعدؓ کو خط لکھا۔
۶… کسی صحابیؓ سے انکار کسی کتاب میں مروی نہیں۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 26 ( دس علامات کے ظاھر ہونے سے پہلے قیامت نہیں آئے گی)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( دس علامات کے ظاھر ہونے سے پہلے قیامت نہیں آئے گی)

حدیث نمبر:۲۶…
’’عن حذیفۃ بن اسیدؓ اشرف علینا۰ رسول اﷲﷺ ونحن نتذاکر الساعۃ قال لا تقوم الساعۃ حتیٰ ترو عشر آیات طلوع الشمس من مغربہا۰ الدخان الدجال یاجوج وماجوج۰ نزول عیسیٰ ابن مریم۰ دجال‘‘
(رواہ مسلم ج۲ ص۳۹۳، باب اشراط الساعۃ)
’’حذیفہ بن اسیدؓ صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ درآنحالیکہ ہم صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ دس علامتوں سے پہلے قیامت نہیں آسکتی۔ سورج کا مغرب سے نکلنا۔ الدخان، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دجال کا خروج کرنا۔ ‘‘ الیٰ اخر الحدیث!
تصدیق
یہ حدیث امام مسلم نے روایت کی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون مصدق چاہئے۔ امام مسلم کی احادیث کی صحت کا خود مرزاقادیانی اقرار کر چکے ہیں۔
(ازالہ خورد ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲)
نزول عیسیٰ ابن مریم کی تشریح مطلوب ہو تو ہم ایسے شخص کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ جس کے متعلق مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ چاروں اماموں میں سے ہر لحاظ سے افضل تر تھے اور قرآن اور حدیث کے سمجھنے میں ان کا مرتبہ سب سے بلند تھا۔ یہ بزرگ ہستی امام ابوحنیفہؒ ہیں۔ آپ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔
’’نزول عیسیٰ علیہ السلام من السمائ… حق کائن‘‘
(الفقہ الاکبر ص۸،۹)
’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا یقینا حق ہے۔‘‘

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 25 ( عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے)

حدیث نمبر:۲۵… 
’’عن عائشۃؓ قالت قال رسول اﷲﷺ فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ اماماً عدلاً وحکماً مقسطاً‘‘
(مسند احمد ج۶ ص۷۵)
’’حضرت عائشہؓ صدیقہ رسول کریمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا (کہ دجال کے خروج کے بعد) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ پس قتل کریں گے دجال کو۔ پھر بعد اس کے زمین میں رہیں گے چالیس برس امام عادل اور منصف مزاج حاکم کی حیثیت سے۔‘‘
تصدیق الحدیث

اس حدیث کی صحت کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ اس کے راوی امام احمد بن حنبل قادیانیوں کے مسلمہ امام ومجدد صدی دوم ہیں۔ وہ غلط حدیث کو روایت نہیں کر سکتے۔
نتیجہ

۱… ظاہر کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے اور قتل کے بعد زمین میں چالیس سال رہیں گے۔ زمین میں رہنے کی تخصیص بتلارہی ہے کہ اس سے پہلے وہ زمین سے کہیں باہر رہتے ہوں گے۔ ورنہ اگر مرزاقادیانی کی طرح ہی کسی آدمی نے عیسیٰ بن جانا تھا تو زمین میں رہنے کا ذکر فضول ہے۔ (زمین کا مقابل آسمان ہے۔ اس تقابل سے بھی اور لفظ نزول سے بھی ان کا آسمانوں پر رہنا ثابت ہوا)
۲… پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بادشاہ ہوں گے۔ ورنہ جس آدمی کے پاس طاقت نہیں وہ عادل ومقسط کا عہدہ کیا مرزاقادیانی کی طرح زبانی جمع خرچ سے حاصل کر لے گا۔؟

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 24 ( عیسی ابن مریم میری قبر پر تشریف لائیں گے ، حاکم عادل ہو گا)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( عیسی ابن مریم میری قبر پر تشریف لائیں گے ، حاکم عادل ہو گا)

حدیث نمبر:۲۴…
’’عن ابی ہریرہؓ قال قال رسول اﷲﷺ لیہبطن بن مریم حکماً عدلاً واماماً مقسطاً ویسلکن فجا حاجاً ومعتمرا ولیأتین قبری حتی یسلم علی ولاردن علیہ‘‘
(اخرج الحاکم وصححہ ج۳ ص۴۹۰، حدیث نمبر۴۲۱۸)
حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ فرمایا رسول اﷲﷺ نے کہ البتہ ضرور اترے گا عیسیٰ بیٹا مریم کا۔ حاکم عادل ہوگا اور امام انصاف کرنے والا۔ البتہ ضرور گزرے گا۔ ایک راہ سے حج یا عمرہ کرتا ہوا اور البتہ ضرور میری قبر پر تشریف لائے گا اور مجھے سلام کرے گا اور میں اسے جواب دوں گا۔
تصدیق حدیث

۱… قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نے بھی اپنی کتاب انتباہ الاذکیا فی حیات انبیاء میں اس حدیث کو درج کیا ہے۔
نیز درمنثور ج۲ میں بھی ذکر کیا ہے۔
۲… پھر راوی اس حدیث کے امام حاکم قادیانیوں کے مسلم مجدد وامام صدی چہارم ہیں۔
نتیجہ

اس حدیث میں رسول کریمﷺ نے قادیانی کا ناطقہ کئی طریقوں سے بند کیا ہے۔
۱… ’’لیہبطن‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہیں نیچے اترے گا قادیانی اس کے معنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا دکھائیں تو منہ مانگا انعام لیں۔
۲… پھر صرف ابن مریم کا نزول فرمایا۔ ابن چراغ بی بی نہیں۔
۳… منصف حاکم۔
۴… عیسیٰ علیہ السلام کا حاجی ہونا۔
۵… عیسیٰ علیہ السلام کا رسول اﷲ کی قبر پر حاضر ہوکر سلام کہنا اور جواب لینا۔
نوٹ: یہ باتیں مرزاقادیانی میں کہاں ہیں؟ اگر کوئی بھی ہے تو پیش کرو۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 23 ( شروع میں میں (محمدﷺ)آخر میں عیسیؑ اوردرمیان میں امام مہدی ہوں گے)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( شروع میں میں (محمدﷺ)آخر میں عیسیؑ اوردرمیان میں امام مہدی ہوں گے)

حدیث نمبر:۲۳…
’’عن ابن عباسؓ (مرفوعاً) قال رسول اﷲﷺ لن تہلک امۃ انا فی اولہا وعیسیٰ ابن مریم فی آخرہا والمہدی فی اوسطہا‘‘ 
(کنزالعمال ج۱۴ ص۲۶۶، حدیث نمبر۳۸۶۷۱)
حضرت ابن عباسؓ راوی ہیں کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے۔ جس کے شروع میں تو میں ہوں۔ آخر میں عیسیٰ بیٹا مریم کا اور درمیان میں امام مہدی۔
تصدیق

اس حدیث کے صحیح ہونے پر تو ڈبل مہر ثبت ہے۔ قادیانیوں کے دو مسلم مجددوں نے اس کو روایت کیا ہے۔ یعنی امام احمد اور حافظ ابونعیم نے دیکھو فہرست مجددین۔
نتیجہ

ظاہر ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس امت کے خادم کی حیثیت سے آئیں گے اور امت کی فلاح وبہبود کا کام کریں گے نہ کہ کفر کی مشین گن سے بڑے بڑے علماء اسلام اور صوفیائے عظام کو کافر بنادیں گے۔ رسول کریمﷺ تو فرمارہے ہیں۔ ان کی وجہ سے امت ہلاکت سے بچی رہے گی۔ یہاں بھی المسیح کا لفظ نہیں فرمایا۔ بلکہ عیسیٰ اور وہ بھی بیٹا مریم کا بتایا جو عیسیٰ علیہ السلام ہی کا نام ہے اور وہی عیسیٰ رسول الی بنی اسرائیل ہے۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 22 ( ابتداء میں (محمدﷺ) درمیان میں خلیفے آکر میں مسیح)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( ابتداء میں (محمدﷺ) درمیان میں خلیفے آکر میں مسیح ؑ )

حدیث نمبر:۲۲…
’’عن علیؓ قال قال رسول اﷲﷺ ابشروا ثم ابشروا… کیف تہلک امۃ انا اولہا واثنا عشر خلیفۃ من بعدی والمسیح عیسیٰ ابن مریم آخرہا‘‘
تصدیق

یہ حدیث قادیانی مذہب کی شہرہ آفاق کتاب (عسل مصفی ج۲ ص۵۱۲) پر درج ہوکر مرزاقادیانی سے سند صحت حاصل کر چکی ہے۔
ترجمہ منقول از (عسل مصفی ج۲ ص۵۱۲)
’’رسول اﷲﷺ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خوش ہو۔ خوش ہو… وہ امت کیونکر ہلاک ہوسکتی ہے کہ جس کی ابتداء میں میں ہوں اور درمیان میں میرے بعد بارہ خلیفے ہوں گے اور سب سے آخری مسیح عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہے۔‘‘
نتائج

رسول کریمﷺ نے ’’والمسیح‘‘ کے بعد اس کی شخصیت کو واضح کرنے کے لئے عیسیٰ کا لفظ بڑھایا۔ پھر قادیانیوں کا ناطقہ بند کرنے کو ابن مریم یعنی مریم کا بیٹا عیسیٰ علیہ السلام فرمایا۔ مگر پھر بھی قادیانی ہیں۔ اس کے بمطابق ’’مان نہ مان میں تیرا مہمان‘‘ کی ایک ہی ہانکے جاتے ہیں۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 21 ( اول دجال بعد میں عیسی ابن مریم آئیں گے)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( اول دجال بعد میں عیسی ابن مریم آئیں گے)

حدیث نمبر:۲۱…
نوٹ: ہم اس حدیث کا ترجمہ (عسل مصفی قادیانی ج۲ ص۲۸۳) سے نقل کرتے ہیں۔ ’’نعیم بن حماد نے حذیفہ بن الیمانؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول خداﷺ سے پوچھا۔ دجال پہلے ہوگا یا عیسیٰ ابن مریم۔ فرمایا اوّل دجال ہوگا پھر عیسیٰ ابن مریم۔‘‘
(کنزالعمال ج۱۴ ص۵۹۹، حدیث نمبر۳۹۶۸۶، بحوالہ عسل مصفیٰ ج۲ ص۲۸۳)
تصدیق صحت حدیث

قادیانی مولوی خدابخش نے اس حدیث کی صحت کو ببانگ دہل صحیح تسلیم کیا ہے۔
(دیکھو حوالہ بالا)
نتائج:

۱… حذیفہ بن الیمانؓ صحابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہ صرف نام ہی لے رہا ہے۔ بلکہ ساتھ ہی ابن مریم (مریم کا بیٹا) کہہ کر اس کی تخصیص کر رہا ہے اور رسول خداﷺ بھی اسی طرح مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم میں ہی محصور کر رہے ہیں۔
۲… صحابی اور رسول اﷲﷺ کے مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال اور عیسیٰ ابن مریم دو اشخاص ہوں گے۔ دجال اگر شخص واحد نہ قرار دیا جائے تو رسول اﷲﷺ کی تکذیب لازم آتی ہے۔ کیونکہ آپﷺ نے فرمایا کہ دجال پہلے ہوگا عیسیٰ علیہ السلام سے۔ اگر مرزائیوں کا عقیدہ مان کر انگریزوں کو یا صرف پادریوں کو دجال کہا جائے تو وہ تو اب بھی ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام (مرزاقادیانی) آئے اور مر بھی گئے۔ مگر دجال اسی طرح دندناتا پھرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ نازل ہونے والا موعود نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے ہیں۔ نہ کہ غلام احمد بیٹے چراغ بی بی کے۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 20 ( عیسی ابن مریمؑ کے ہاتھوں دجال کا قتل)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( عیسی ابن مریمؑ کے ہاتھوں دجال کا قتل)

حدیث نمبر:۲۰…
’’عن علیؓ انہ خطب الناس‘‘ الحدیث!
(کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۲، حدیث نمبر۳۹۷۰۹، بحوالہ عسل مصفی جلد۲ ص۲۷۶،۲۷۸)
تصدیق

مرزاخدا بخش قادیانی نے اس حدیث کو مرزاغلام احمد قادیانی کی تصدیق میں پیش کیا ہے۔ لہٰذا اس کے صحیح ہونے پر قادیانی کوئی اعتراض نہیں کر سکتے۔ ترجمہ بھی ہم عسل مصفی سے ہی نقل کرتے ہیں۔
’’حضرت علیؓ نے لوگوں کے ساتھ خطبہ پڑھا… پھر تین دفعہ کہا اے لوگو! پیشتر اس کے کہ میں تم سے رخصت ہو جاؤں۔ مجھ سے کچھ پوچھ لو۔ (دجال کے متعلق سوال شروع ہوئے) دجال کے بہت سے گروہ ہوں گے۔ اس کے تابعدار یہودی اور بدکار ہوں گے۔ اﷲتعالیٰ اس کو شام میں ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں۔ دن کے تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔‘‘
نوٹ: آخری حصہ کا ترجمہ مرزاخدابخش قادیانی نے نہیں کیا۔ جس سے اس حدیث کا مرفوع ہونا اظہر من الشمس ہے۔
آخری الفاظ حضرت علیؓ کے یہ ہیں: ’’لا تسئلونی عما بعد ذالک فان رسول اﷲﷺ عہد الی ان اکتمہ‘‘ یعنی اے لوگو! اس سے زائد مجھ سے نہ پوچھو۔ کیونکہ رسول اﷲﷺ نے مجھ سے عہد لیا ہوا ہے کہ اسے چھپاؤں گا۔
(رواہ ابن المناوی) اس سے صاف معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کا بیان کردہ تمام مضمون ارشاد نبوی تھا۔ پس یہ سارا مضمون مرفوع حدیث کا حکم رکھتا ہے۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 19 ( حضرت عیسیؑ کے نازل ہونے کا وقت )

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث ( حضرت عیسیؑ کے نازل ہونے کا وقت )

حدیث نمبر:۱۹…
’’عن ابی امامۃ الباہلیؓ قال خطبنا رسول اﷲﷺ فقالت ام شریک بنت ابی الفکر یا رسول اﷲ فاین العرب یومئذ قال ہم قلیل… وامامہم رجل صالح قد تقدم بہم الصبح اذ نزل عیسیٰ ابن مریم‘‘
(ابن ماجہ ص۲۹۸، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم)
حضرت ابوامامۃ الباہلیؓ نے بیان کیا کہ رسول کریمﷺ نے ہم صحابہ کو مخاطب کر کے (دجال اور قیامت کا حال بیان فرمایا)… ام شریک بنت ابی الفکر صحابیہ نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ اس دن عرب کہاں ہوں گے۔ آپﷺ نے فرمایا وہ تھوڑے ہوں گے اور امام ان کا ایک صالح مرد ہوگا۔ وہ آگے ہوکر انہیں صبح کی نماز پڑھائے گا کہ اچانک عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 18 (خنجر نکالیں گے اور دجال کو قتل کر دیں گے)​

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (خنجر نکالیں گے اور دجال کو قتل کر دیں گے)

حدیث نمبر:۱۸…
’’رواہ احمد عن عثمان بن ابی العاصؓ وھو فی المسجد مع جماعۃ قال سمعت رسول اﷲﷺ یقول فیخرج الدجال… ومع الدجال سبعون الفاً… وینزل عیسیٰ ابن مریم عند الصلوٰۃ الفجر فیقول لہم امیرہم یا روح اﷲ تقدم صل لنا فیقول ہذہ الامۃ امراء بعضہم علیٰ بعض فیتقدم امیرہم فیصل حتیٰ اذا قضے صلوٰتہ اخذ عیسیٰ حربتہ فیذہب نحو الدجال… فیقتلہ‘‘
(رواہ احمد فی المسند احمد ج۴ ص۲۱۶،۲۱۷، والحاکم فی المستدرک ج۵ ص۶۷۴، حدیث نمبر۸۵۲۰)
تصدیق:

۱… امام احمد قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی دوم تھے۔ وہ بھلا کوئی غلط حدیث روایت کرسکتے ہیں؟
۲… اس حدیث کو قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی چہارم امام حاکم نے بھی روایت کیا ہے۔
’’حضرت عثمان بن ابی العاصؓ نے ایک جماعت کثیر کے سامنے مسجد میں بیان کیا کہ سنا میں نے رسول کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے… دجال نکلے گا… اور اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے… اس وقت نازل ہوگا عیسیٰ علیہ السلام بیٹا مریم کا صبح کی نماز کے وقت۔ پس مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا آگے آئیے۔ نماز پڑھائیے۔ پس حضرت کہیں گے کہ یہ شرف امت محمدی ہی کو حاصل ہے کہ اس میں سے بعض اس کے بعض پر امیر ہوتے ہیں۔ پس آگے بڑھے گا امیر مسلمانوں کا اور نماز پڑھائے گا۔ یہاں تک کہ جب نماز پڑھا چکے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا خنجر پکڑیں گے۔ پھر دجال کی طرف جائیں گے… پس اسے قتل کریں گے۔‘‘ (رواہ احمد)
نتائج وہی ہیں جو حدیث نمبر دو کے ذیل میں دکھائے گئے ہیں۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 17 (ابن مریم روحاء کی گھاٹی میں لبیک پکاریں گے اور حج و عمرہ ادا کرنا)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (ابن مریم روحاء کی گھاٹی میں لبیک پکاریں گے اور حج و عمرہ ادا کرنا)

حدیث نمبر:۱۷…
’’یحدث ابوہریرہؓ قال رسول اﷲﷺ والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او لیثنینہما‘‘ 
(رواہ مسلم ج۱ ص۴۰۸، باب جواز التمتع فی الحج والقرآن)
عظمت واہمیت حدیث

۱… یہ حدیث امام مسلم نے صحیح مسلم میں روایت کی ہے۔ صحیح مسلم کا صحیح ہونا قادیانی مسلمات سے ہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
الف… ’’اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں کیوں باربار ان کو اپنی تائید میں پیش کرتا۔‘‘
(ازالہ اوہام خورد ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲)
ب… ’’صحیحین کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے۔‘‘ 
(تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵)
۲… کسی مجدد ومحدث نے اس حدیث پر نکتہ چینی نہیں کی۔ گویا تمام امت کا اس کی صحت پر اجماع ہے۔
۳… اسی حدیث کو امام احمد نے اپنی (مسند ج۲ ص۲۴۰،۲۷۲،۵۱۳،۵۴۰) میں غالباً چار جگہ روایت کیا ہے۔ امام احمد، قادیانیوں کے نزدیک مجدد صدی دوم تھے۔
۴… (تفسیر درمنثور ج۲ ص۲۴۳) میں امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم نے بھی اس حدیث کو درج فرمایا ہے۔ امام موصوف کی عظمت دیکھنی ہوتو ملاحظہ کریں۔ 
(ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
۵… پھر اس حدیث کو قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ششم امام ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں درج کیا ہے۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ج۳ جب عظمت واہمیت حدیث بالا کی آپ پر ظاہر ہوچکی تو اب ہم اس کا ترجمہ بیان کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور ابن مریم روحاء کی گھاٹی میں لبیک پکاریں گے۔ حج کی یا عمرہ کی یا قران کریں گے اور دونوں کی لبیک پکاریں گے ایک ہی ساتھ۔
نتائج:

۱… یہ مضمون رسول کریمﷺ نے چونکہ قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے۔ اس واسطے اس کا تمام مضمون اپنے ظاہری معنوں کے لحاظ سے پورا ہونا ضروری ہے۔ مرزاقادیانی ہماری تائید میں پہلے ہی فرماگئے ہیں۔ ترجمہ قول مرزا ’’نبی کا کسی مضمون کو قسم کھا کر بیان کرنا اس بات پرگواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہ کی جائے اور نہ استثناء بلکہ اس کو ظاہر ہی پر محمول کیا جائے ورنہ قسم اٹھانے کا فائدہ کیا ہوا۔‘‘
(حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ)
۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آکر حج بیت اﷲ کریں گے اور خود حج کریں گے۔ دوسرا آدمی ان کی بجائے حج نہیں کرے گا۔
۳… پس ضروری ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نزول کے بعد اس قدر امن قائم کر لیں گے کہ کوئی امر حج کرنے سے روک نہ سکے گا۔
۴… حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام ایسی بیماریوں سے محفوظ ہوں گے جو حج کرنے سے مانع ہو سکتی ہیں۔
۵… حضرت ابن مریم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہی ہوں گے۔ کیونکہ ابن مریم سے مراد ابن چراغ بی بی (غلام احمد قادیانی) لینا ظاہر کے خلاف ہے اور بدترین تاویل کی مثال ہے۔
۶… ’’فج الروحا‘‘ سے مراد وہی روحا کی گھاٹی لینا پڑے گی نہ کہ قادیان۔
۷… ’’حج‘‘ سے مراد وہی حج اہل اسلام مراد ہوگا۔ اس سے مراد مرزاقادیانی کا لاہور یا دہلی جانا یا محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرنا یا مقدمات کی وجہ سے جہلم جانا نہیں لے سکتے۔
۸… نزول سے مراد اوپر سے نیچے اترنا ہی لیا جائے گا۔ کیونکہ یہی اس کے ظاہری معنی ہیں۔ اس کے خلاف معنی کرنا مرزاقادیانی کے مذکورہ بالا اصول کے خلاف ہوگا۔
ناظرین! غور کیجئے کبھی آپ نے کسی قادیانی کو وفات مسیح پر بھی اسی طرح کے بولتے ہوئے دلائل بیان کرتے سنا ہے۔ ان کے دلائل کا تجزیہ انشاء اﷲ ہم دوسرے حصہ میں کریں گے۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 16 (حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوں گے)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوں گے)

حدیث نمبر:۱۶…
’’اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن الربیعؓ قال ان النصاریٰ اتوا رسول اﷲﷺ فخا صموہ فی عیسیٰ ابن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اﷲ الکذب والبہتان فقال لہم النبیﷺ الستم تعلمون انہ الا یکون ولد الا وھو یشبہ اباہ قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا فقالوا بلیٰ‘‘
(درمنثور ج۲ ص۳، زیر آیت ھو الحی القیوم)
عظمت وصحت حدیث
اس حدیث کی عظمت کا اندازہ آپ اسی امر سے لگا سکتے ہیں کہ امام ابن جریرؒ جیسے مفسر اعظم ومحدث معتبر مسلم قادیانی (دیکھو حدیث نمبر۱۵ کی ذیل میں) نے اپنی تفسیر میں اس کو درج کیا ہے اورامام جلال الدین سیوطیؒ نویں صدی کے مجدد وامام مسلم قادیانی نے بھی اپنی شہرہ آفاق تفسیر درمنثور میں اس کو صحیح لکھا ہے۔ 
’’ربیع کہتے ہیں کہ نجران کے عیسائی رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں (یعنی توحید وتثلیث پر بحث شروع کر دی) اور کہنے لگے کہ (اگر عیسیٰ علیہ السلام خدا کا بیٹا نہیں ہے تو بتاؤ) اس کا باپ پھر کون ہے۔ لگے اﷲ پر جھوٹ اور بہتان جڑنے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ولد اﷲ کہنے سے) رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کیوں نہیں؟ پھر رسول کریمﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اﷲتعالیٰ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ حالانکہ یقینا عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی۔ تو انہوں نے کہا۔ کیوں نہیں۔‘‘
ناظرین! اس حدیث سے روز روشن کی طرح چند نتائج مندرجہ ذیل ہویدا ہیں۔
۱… اگرحضرت عیسیٰ علیہ السلام فی الواقعہ فوت ہو چکے ہوتے تو رسول پاکﷺ ’’وان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی۔ نہ فرماتے بلکہ آپ فرماتے کہ ’’وان عیسیٰ قد اتٰی علیہ الفنائ‘‘ کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوچکی ہے۔ مگر آپﷺ نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ رسول کریمﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسدہ العنصری مانتے تھے۔
۲… الزامی جواب دینا مناظرہ ومباحثہ میں مسلم ہے اور ایسا جواب ہوتا بھی بالکل فیصلہ کن ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس کتاب میں اپنے طرز استدلال کو بہت حد تک قادیانی مسلمات تک ہی محدود رکھا ہے۔ اسی طرح رسول کریمﷺ کو پتہ تھا کہ اگر عیسائی اور یہودی عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر مر جانے کے قائل ہیں۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام کا فوت شدہ ہونا یہودی مسلمات اور عیسائی مظنونات میں سے ہے اور موت الوہیت کی (خدائی کی) شان کے منافی (خلاف) ہے۔ اس واسطے رسول کریمﷺ ان کے مسلمات کی رو سے کہہ سکتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو تمہارے عقیدہ کے مطابق فوت ہوچکے ہیں۔ وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں؟ اور یہ الزامی جواب آپ کا بالکل درست تھا۔
مگر قربان جائیں اس رحمتہ اللعالمین کی دوراندیشی اور ہمدردی کے جو آپﷺ نے اپنے ہر ہر فعل اور ہر ایک قول میں مدنظر رکھی ہے۔ آنحضرتﷺ نے مناظرانہ رنگ میں مسکت اور لاجواب الزامی کی بجائے تحقیقی جواب سے کام لیا جو ببرکت نبوت واقعی ہی لاجواب ثابت ہوا۔ امت مرحومہ کے ساتھ ہمدردی اور شفقت اس بات میں مضمر تھی کہ اگر آپﷺ کی زبان مبارک سے یہ لفظ نکل جاتے (یعنی عیسیٰ علیہ السلام تو تمہارے خیال میں مر چکے ہیں) تو قادیانی ضرور اسے قول نبوی ثابت کر کے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر دلیل کے طور پیش کرتے۔ پس اس طرز استدلال سے رسول کریمﷺ نے قادیانیوں کا ناطقہ بند کردیا اور امت مرحومہ کے ہاتھ میں زبردست دلیل حیات عیسیٰ علیہ السلام پر چھوڑ گئے۔

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث 15 (عیسیؑ فوت نہیں ہوئے اور قیامت سے پہلے واپس لوٹیں گے)

حیات عیسی علیہ السلام پر احادیث (عیسیؑ فوت نہیں ہوئے اور قیامت سے پہلے واپس لوٹیں گے)

حدیث نمبر:۱۵…
’’عن الحسنؒ قال قال رسول اﷲﷺ لیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘

(درمنثور ج۲ ص۳۶، زیر آیت یا عیسیٰ انی متوفیک)
’’امام حسن بصریؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے یہود کو مخاطب کر کے کہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور بیشک وہ تمہاری طرف واپس آئیں گے قیامت سے پہلے۔‘‘
تصدیق حدیث
۱… یہ حدیث بیان کی ہے امام حسن بصریؒ نے جو ہزارہا اولیاء کرام اور بیسیوں مجددین امت کے روحانی پیشوا ہیں۔
۲… اس حدیث کو روایت کیا امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی تفسیر درمنثور میں اور امام جلال الدینؒ تھے نویں صدی کے مجدد اعظم۔
نیز قادیانی نے ان کی شان میں لکھا ہے کہ: ’’وہ صحیح اور ضعیف حدیث میں فرق رسول کریمﷺ سے براہ راست ملاقات کر کے معلوم کر لیا کرتے تھے۔‘‘ 

(ازالہ خورد ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
۳… پھر یہی حدیث قادیانیوں کے مسلم مجدد وامام صدی ششم امام ابن کثیرؒ نے بھی باسناد صحیح اپنی تفسیر میں درج کی ہے۔ اس کا انکار قادیانیوں کے نزدیک فسق اور کفر ہے۔
۴… پھر اس حدیث کو ابن جریرؒ نے بھی صحیح قبول کر لیا ہے۔ جو صحیح معنوں میں مفسر اور محدث تھے۔

(دیکھو چشمہ معرفت ص۲۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱)
ہاں ہاں یہ وہی ابن جریرؒ مفسر قرآن ہے جس کی تفسیر کے بے مثل ہونے پر اجماع امت ہے۔
دیکھئے قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ تفسیر اتقان میں امام ابن جریر کے متعلق یوں فرماتے ہیں:
’’اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘

(اتقان ج۲ ص۳۲۵)
’’معتبر علماء امت کا اجماع ہے کہ ایسی تفسیر کسی نے نہیں لکھی۔‘‘ اس مرتبہ کے بزرگ نے اس حدیث کو اپنی تفسیر میں صحیح سمجھ کر درج کیا ہے۔
۵… قادیانیوں کے بہت بڑے عالم مولوی محمد احسن امروہی نے بھی اپنی کتاب (شمش بازغۃ ص۷۰) پر اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
قادیانی اعتراض
یہ حدیث مرسل ہے۔ اس واسطے قابل قبول نہیں یعنی حدیث مرفوع نہیں۔
جواب… اس کی صحت اور عظمت کے دلائل جو اوپر بیان کئے گئے ہیں۔ اوّل تو وہی کافی ہیں۔ مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں اور عرض کرتا ہوں۔
۱… اجی! حضرات آپ یہ میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو، ہمارے سامنے نہیں کر سکتے۔ آپ ہر مجلس میں کسوف وخسوف والی حدیث کو پیش کیا کرتے ہو۔ حالانکہ وہ حدیث رسول نہیں ہے۔ یعنی یہ قول ’’ان لمہدینا آیتین‘‘ راوی اس عبارت کو حدیث رسول نہیں کہتا۔ مگر باوجود اس کے اپنی خودغرضی کے لئے اسے حدیث رسول مانتے ہو یا نہ؟ بالعکس اس کے ہماری پیش کردہ حدیث تو حدیث رسول ہے۔ جیسا کہ راوی زبدۃ العارفین رئیس المکاشفین حضرت امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں۔
’’قال رسول اﷲﷺ‘‘ جب حسن بصریؒ جیسا راوی اس حدیث کو حدیث رسول کہتا ہے تو اس مذکورہ بالا قول کے ساتھ ذرا مقابلہ تو کرو۔
پھر لطف یہ ہے کہ قادیانیوں کا یہ اعتراض ناشی از جہالت ہے۔ خود مرزاقادیانی ناشی اپنی تعلیمی حالت ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔
’’بخدا یہ سچ اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اس ذات کی۔ جس کے ہاتھ میری جان ہے کہ درحقیقت مجھ میں کوئی علمی اور عملی خوبی یا ذہانت اور دانشمندی کی لیاقت نہیں اور میں کچھ بھی نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ایک خط کا جواب ص۱۶، خزائن ج۳ ص۶۳۵)
پھر دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی (اصل اسی طرح ہے۔ ابوعبیدہ) حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔‘‘ 

(ایام الصلح ص۱۴۷، خزائن ج۱۴ ص۳۹۴)
باقی رہا مرزائی علماء کا حال سو وہ فنا فی القادیان ہیں اور ہزماسٹرس وائس کا مصداق ہیں۔ ہر کہ درکان نمک رفت نمک شد۔
حدیث دراصل مرسل نہیں بلکہ مرفوع ہی ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ امام حسن بصریؒ نے جو احادیث حضرت علیؓ سے روایت کی ہیں۔ ان میں وہ حضرت علیؓ کا نام قصداً حذف کر دیتے ہیں۔ تہذیب الکمال للمزی میں ان کا قول یوں درج ہے۔
’’کل شیٔ سمعتنی اقول فیہ قال رسول اﷲﷺ فہو عن علیؓ ابن ابی طالب غیر انی فی زمان لا استطیع ان اذکر علیا‘‘
میں جتنی احادیث میں قال رسول اﷲﷺ کہوں اور صحابی کا نام نہ لوں سمجھ لو کہ وہ علیؓ ابن طالب کی روایت ہے۔ میں ایسے (سفاک دشمن آل رسول حجاج کے) زمانے میں ہوں کہ حضرت علیؓ کا نام نہیں لے سکتا۔
لیجئے! دوسری شہادت ملاحظہ کیجئے اور شہادت بھی اس شخص کی جس کو قادیانی جماعت مجدد وامام صدی دہم تسلیم کر چکی ہے۔
یعنی ملا علی قاریؒ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں:
’’وکان قد یحذف اسم علیؓ ایضا بالخصوص لخوف الفتنۃ‘‘
یعنی امام حسن بصریؒ فتنہ کے خوف سے حضرت علیؓ کا نام مبارک روایت میں خاص طور سے حذف کر جاتے تھے۔
حضرات! اب کس قادیانی کا منہ ہے کہ اپنے ہی ایک مجدد کی شہادت کے برخلاف اس حدیث کو مرسل کہہ کر جان چھڑا سکے؟ پھر لطف یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو مرسل بھی مان لیں تو بھی اس کی عظمت حجیت میں فرق نہیں پڑتا۔ وہ بھی اہل اسلام کے لئے حجت اور دلیل ہے۔ چنانچہ وہی ملا علی قاریؒ قادیانیوں کے مسلم مجدد فرماتے ہیں۔
’’قال جمہور العلماء المرسل حجۃ مطلقاً‘‘ شرح نخبہ
’’یعنی جمہور علماء اسلام کے نزدیک مرسل حدیث بھی قطعی حجت ہے۔‘‘
نتائج

حضرات! جب اس حدیث کی عظمت ایسے پیرایہ سے ثابت ہو چکی کہ قادیانیوں کو سوائے سرتسلیم خم کرنے کے اور کوئی جائے فرار باقی نہیں رہی تو ہم اس حدیث سے ایسے نتائج بیان کرتے ہیں جو ہر ذکی اور فہیم آدمی کو خود بخود نظر آتے ہیں۔
۱… چونکہ یہ قول رسول کریمﷺ کا یہود کے خطاب میں ہے۔ اس واسطے یہودیوں کے عقیدہ باطلہ قتل مسیح کا رد فرمارہے ہیں اور ایسے الفاظ سے فرماتے ہیں کہ وہ سب قسم کی موت پر حاوی ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’ان عیسیٰ لم یمت‘‘ تحقیق عیسیٰ نہیں مرے۔
اس میں موت بالصلیب اور موت طبعی سب قسم کی موت سے انکار کر رہے ہیں۔
۲… قادیانی جماعت کی پیش کردہ تاویل یا تفسیر کہ عیسیٰ علیہ السلام واقعہ صلیبی سے ۸۷برس بعد طبعی موت سے کشمیر میں فوت ہوگئے تھے۔ اس کا رد بھی فرمارہے ہیں۔
۳… ’’وانہ راجع الیکم‘‘ اور بالتحقیق عیسیٰ علیہ السلام تمہاری طرف واپس آئیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں وہ موجود نہیں کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔
وہ کہاں ہیں؟ ہم قرآنی دلائل وحدیثی شواہد سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ آسمان پر ہیں۔
نکتۂ عظیمہ

اﷲ علاّم الغیوب نے رحمتہ اللعالمینﷺ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جاری فرمادئیے کہ قادیانی جدھر بھاگتا ہے۔ آگے سے پھانس لیتے ہیں۔ اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے ’’نازل‘‘ کے لفظ کو ترک کر کے اور ’’راجع‘‘ کا لفظ استعمال کر کے تیرہ سو سال بعد آنے والے ایک مدعی نبوت ومسیحیت کا ناطقہ بند کر کے امت مرحومہ پر وہ احسان فرمایا ہے کہ واﷲ میں تو صرف اسی ایک احسان کے بوجھ سے پسا جارہا ہوں۔ قادیانی ’’نبی‘‘ مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔
’’اگر اس جگہ (حدیث میں) نزول کے لفظ سے یہ مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہئے تھا۔ کیونکہ جو شخص واپس آتا ہے اس کو عرب زبان میں راجع کہا جاتا ہے۔ نہ نازل۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲)
دوسری جگہ لکھتا ہے:
’’اگر کوئی شخص آسمان سے واپس آنے والا ہوتا تو اس موقعہ پر رجوع کا لفظ ہونا چاہئے تھا۔ نہ کہ نزول کا لفظ۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۰، خزائن ج۲۳ ص۲۲۹)
قادیانی ناظرین سے ایک مودبانہ درخواست

مرزاقادیانی کا چیلنج دوبار رجوع وراجع آپ نے ملاحظہ فرما لیا اور حدیث بھی آپ نے پڑھ لی۔ حدیث کی عظمت پر بھی آپ ہی کے مسلمہ مجددین اور آئمہ کرام کی شہادت ثبت کرادی گئی ہے۔ مرزاقادیانی بیچارے تو علم حدیث سے محض کورے اور خالی تھے۔ انہیں یہ صحیح درصحیح مرسل نہ بلکہ مرفوع حدیث (جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں) معلوم نہ تھی۔ مگر آپ کے سمجھانے کے لئے ایک اصول ضرور لکھ گئے۔ یعنی اگر حدیث میں رجوع کا لفظ موجود ہوتو پھر بالیقین عیسیٰ علیہ السلام کا حیات ورفع جسمانی خود بخود ثابت ہوجائے گا۔
پس اگر اسلام کی خاطر نہیں تو کم ازکم مرزاقادیانی کی خوشنودی کی خاطر ہی آپ رجوع کے لفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے عقیدہ باطلہ سے رجوع کر لیں۔
۴… ’’قبل یوم القیامۃ‘‘ کے الفاظ اسلامی تفسیر کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کی مکمل شرح ہے۔ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن‘‘ پر پوری روشنی ڈال رہے ہیں۔
۵… آنحضرتﷺ فرمارہے ہیں کہ آنے والا عیسیٰ علیہ السلام (غلام احمد ابن چراغ بی بی نہ ہوگا) بلکہ وہی ابن مریم ہوگا جو نہیں مرا۔